ہفتہ , 4 اپریل 2020

برطانیہ کی نئی ویزا پالیسی، ہنر مند افراد کے لیے اہم فیصلہ

یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد نئی برطانوی ویزا پالیسی میں دنیا بھر کے ہنرمندوں کے لیے خوش خبری دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق بریگزٹ کے بعد برطانیہ نے نئی امیگریشن پالیسی جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، برطانیہ نے نئی پالیسی کے تحت یورپ سے سسستی لیبر پر انحصار کو کم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔نئی امیگریشن پالیسی کے تحت اب ویزوں کے لیے دنیا بھر سے ہنرمند افراد کو ترجیح دی جائے گی۔2016 میں بریگزٹ کے ریفرنڈم میں یورپی تارکین وطن کے مسئلے نے اہم کردار ادا کیا تھا، ریفرنڈم میں ملازمت دینے والوں سے کہا گیا تھا
کہ یورپ سے سستی مزدوری پر انحصار نہ کریں۔نئے ’پوائنٹس بیسڈ سسٹم‘ میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ برطانیہ آنے کے لیے ویزا ان افراد کو ملے جن کے پاس برطانوی معیشت کو درکار مہارت ہو۔ دوسری طرف کاروباری فرمز نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ میں گھریلو ملازمین، مریضوں کی تیمارداری اور کھیتوں میں کام کرنے والے کارکنوں کی قلت ہے، یہی وجہ ہے یہ کاروباری فرمز یورپی تارکین وطن کی سستی لیبر پر انحصار کرتے ہیں۔ادھر برطانوی محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ کم سے کم تنخواہ کے مشورے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ مائیگریشن ایڈوائزری کمیٹی ( ایم اے سی) نے ہنر مند تارکین وطن کی کم سے کم تنخواہ 30 ہزار پاؤنڈز سے کم کر کے 26 ہزار 600 پاؤنڈز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔نئی برطانوی پالیسی میں ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری اور آٹومیشن پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، برطانیہ چاہتا ہے کہ تارکین وطن کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ کم کیا جائے، اس لیے برطانوی ویزے کے حصول کے لیے مقرر کردہ معیار کی شرط برقرار رکھی گئی ہے، جس میں انگریزی بولنے کی صلاحیت اور آفر لیٹر شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے