بدھ , 3 جون 2020

ممتاز بزرگ عالم دین پروفیسر حافظ ثناء اللہ خاں وفات پاگئے

مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے رہنما اور ممتاز بزرگ عالم دین پروفیسر حافظ ثناء اللہ خاں وفات پاگئے۔ ان کی نمازجنازہ آریہ گراؤنڈ پونچھ روڈ سمن آباد میں اداکی گئی، جو ان کے بیٹے مولانا ضیاء اللہ برنی نے پڑھائی۔ جس میں بڑی تعداد میں علماء اور ان کے شاگردوں سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والےہزاروں افراد نے شر کت کی۔پروفیسر حافظ ثناء اللہ خان کو ان کے آبائی گاؤں سرہالی ضلع قصور میں سپردخاک کردیا گیا۔ وہ عرصہ چالیس سال تک علوم اسلامیہکے استاد کی حیثیت سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پونچھ روڈ مسجد میں خطابت بھی کرتے رہے۔ انک ے دروس قرآن کا سلسلہ بہت وسیع تھا۔مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ ساجد میر، ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم، چیف آرگنائزر حافظ ابتسام الہی ظہیر نے مرحوم کی وفات پر دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے مشترکہ تعزیتی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مرحوم نہایت متقی اور پختہ عالم دین تھے۔ درس وتدریس میں اپنے منفرد اسلوب کی وجہ سے بہت مقبول تھے۔اللہ تعالی انکی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین۔دوسری جانب شہرہ آفاق کتاب ’’موت کا منظر‘‘ کے مصنف خواجہ محمد اسلام اچانک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے 85 سال کی عمرمیں اچھرہ لاہور میں انتقال کرگئے ۔خواجہ محمد اسلام کی کتاب موت کا منظر نے پوری دنیا میں بے پناہ شہرت حاصل کی اور اب تک کئی زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوچکی ہے ۔شاہ فیصل مرحوم نے کتاب موت کا منظر سے متاثر ہوکر خواجہ محمد اسلام کو اپنی دعوت پر حج کروایا ،غلاف کعبہ کے ٹکڑے اور دیگر تحائف بھی دئیے ۔نوے کی دہائی میں یہ کتاب بہت عام تھی اور بہت زیادہ پڑھی جاتی تھی۔بچے، بزرگ، جوان سب اس کتاب کے گرویدہ نظر آتے تھے۔ والدین اپنے بچوں کیلئے یہ کتاب خریدتے تھے۔ یہ کتاب پڑھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ موت کے بعد انسان کو کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ، گناہوں پر کس قسم کا عذاب ہے اور نیک اور اللہ کے احکامات پر چلنے والوں کیلئے کیا خوشخبریاں ہیں۔خواجہ محمد اسلام نے کتاب جنت کا منظر، حج کا منظر، ماں کی دعا جنت کی ہوا اور تعلیم الاسلام سمیت 33 کے قریب کتابیں تصنیف کیں ۔مرحوم کو نماز جنازہ کے بعد مقامی قبرستان اچھرہ لاہور میں سپرد خاک کردیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے