بدھ , 3 جون 2020

جنرل قمر باجوہ دربارِ رسول خداﷺ میں۔۔ اوریا مقبول جان نے خواب سنادیا

اوریا مقبول جان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ایک دن میرے دوست بریگیڈئرصاحب ان سے ملنے ایبٹ آباد گئے تو وہاں کراچی کے ایک مشہور استاد بھی موجود تھے جن کی شہرت ہی تقویٰ و ریاضت کی بنیاد پر تھی انہوں نے وہاں اپنا ایک خواب سنایا ۔ یہ خواب جنرل باجوہ کے آرمی چیف بننے سے چار سال پہلے کا ہے۔جنرل مقبول جان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا خواب سناتے ہوئے کہا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کی محفل دیکھی جس میں حضرت عمرفاروقؓ فوج کے کسی باجوہ جرنیل کو ساتھ لے کر آئےاور بیٹھ گئے۔ رسول اکرم ﷺ نے جنرل باجوہ کو ایک فائل دی تو جنرل باجوہ نے بائیں ہاتھ سے اسے لینے کی کوشش کی جس پرحضرت عمرفاروقؓ نے ان کے بائیں ہاتھ پر مارا کہ دایاں ہاتھ آگے کرو۔ رسول اکرم ﷺ جو کچھ عطا کرنا چاہتے تھے وہ دے دیا گیا۔ کیا عطا کیا گیا؟ اس کے بارے میں صاحب خواب کو کچھ علم نہیں۔اوریا مقبول جان کے مطابق ایسی باتوں پر فوجیوں کے ایک دم کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دونوں جرنیلوں نے اس وقت حساب لگایا تو تین چار جرنیل تھے۔ تصویریں دکھائی گئیں جس پر ان پروفیسر صاحب نے خواب میں نظر آنے والے جرنیل کو پہچان لیا کوشش کی گئی کہ کسی طرح پروفیسرصاحب کی ان سے ملاقات کرائی جائے۔ جنرل باجوہ کو یہ خواب سنائی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس خواب کا کیا مطلب ہے تو انہیں کہا گیا کہ شاید آپ آرمی چیف بننے والے ہیں جس پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑے اور کہا کہ یہ تو ناممکن ہے میرا آرمی رینک میں پانچواں نمبر ہے اور مجھ سے سینئر چار وہ ہیں جو ہر لحاظ سے مجھ سے قابل ہیں اور اثرورسوخ بھی رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے