Noکا مطلب No ہے! شرمین عبید کے دل جلے

شرمین عیبد کے نقاد اج کل بڑے شاد ہیں۔ بات اس ٹویٹ سے بڑھ گئی ہے۔ اب لوگ بے دھڑک اس کی بہن کی ایک تصویر شیر کر کے اس کے کپڑوں کا حوالہ دے کر پوچھتے ہیں کہ کیا اس خاتون کو ہراساں کیا جا سکتا ہے؟

یہاں بالی ووڈ کی پنک فلم کا شہرہ آفاق مکالمہ یاد آ تا ہے جس میں وکیل (امیتابھ بچن) صاحب عدالت سے کہتے ہیں کہ جناب ’نو‘ کا مطلب ’نو‘ ہے، چاہے وہ کوئی لڑکی کہے بیوی کہے یا پھر کوئی سیکس ورکر۔

قانون تو سیکس ورک کو بھی ریپ اور ہراساں ہونے سے بچنے کا تحفظ دیتا ہے۔ تو کسی لڑکی کی  اس کے کسی عزیز کے ساتھ تصویر کو شیئر کر کے اعتراض کرنا کہ اس طرح کے کپڑے پہننے والی کو بھی ہراسان کیا جا سکتا ہے انتہائی بودی منطق اور دلیل کی نشانی ہے۔

سوشل میڈیا پر بحث کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ 2012ء میں پیو ریسرچ سنٹر کی طرف سے ایک سروے جاری کیا گیا تھا جس کے نتاج سے ثابت ہوتا تھا کہ سوشل میڈیا کسی بھی طور پر بحث کے لیے مناسب فورم نہیں ہے۔

اس کا مشاہدہ سوشل میڈیا کے صارفین کو بھی ہوگا کہ وہاں ہر کوئی اس بات کا خواہشمند ہوتا ہے کہ اس پر داد و تحسین کے ڈونگر برسائے جائیں۔ کچھ حضرات چابک برسانا شروع کر دیتے ہیں تو بات اور بحث کسی طرف نکل جاتی ہے۔

یہی کچھ شرمین کی ٹویٹ کے بعد بھی ہوا۔

اس موضوع پر بحث بہت کم دیکھنے میں آئی کہ ڈاکٹر کی فرینڈ ریکوسٹ ہراسان کرنے کے زمرے میں آتی ہے  یا نہیں؟

اس سلسلے میں کسی نے میڈیکل پریکٹیشنرز کے ضابظہ اخلاق کے بارے میں بحث نہیں کی، نہ ہی کسی نے پاکستان کے قوانین کے کا کوئی قابل ذکر حوالہ دیا۔

دوسری طرف سے ڈاکٹر کا موقف سامنے نہیں آیا کہ اگر ایسا کیا گیا تو کیوں کیا گیا اور ڈاکٹر صاحب پر چانچ کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی طرف سے بھی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔

اس بحث کا دوسرا رخ شرمین کی ڈاکومنٹریز کی طرف مڑ گیا۔

کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس خاتون نے تیزاب گردی کا شکار بننے والی خواتین کا استحصال کر آسکر حاصل کیا جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ اس نے پاکستان کے جلے ہوئے چہرے دکھا کر پاکستان کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ بحث اس سے پہلے بھی لاکھوں مرتبہ کانوں میں پڑ چکی ہے۔

بہت سے لوگ اس ڈاکومینٹری کو دیکھے بنا اس پر تبصرہ کرتے ہیں۔

چند ایک ایسے ہیں جو یہ دلیل لاتے ہیں کہ یوکے اور دیگر ممالک میں تیزاب کے حملوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن انہوں نے ایسی ڈاکومینٹری کیوں نہیں بنائی۔

اس ڈاکومینٹری (سیونگ فیس) پر بات کرنے پہلے اسے دیکھنا ضروری ہے،اس کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔

فلم کے سکرین پلے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

پہلا حصہ تیزاب کے حملے کا شکار بننے والی خواتین کی روزمرہ زندگی پر مبنی ہے جو اپنے انٹرویوز میں اپنی کہانی اور کردار کا بیک پلاٹ بتاتی ہیں کہ ان کے زندگی میں یہ سب کچھ کیسے اور کیونکر رونما ہو ا۔

حملے کے بعد ان کی نفسیات میں کیا تبدیلی آئی انہوں نے اس بڑے صدمے کو کیسے برداشت کیا۔ تیزاب سے جلنے کے بعد ان کے جسموں میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں وہ کس طرح سے ان کی زندگی کو عذاب بنا رہی ہیں۔

ان انٹرویوز کی کرداروں کے رومرہ معمولات کے ساتھ انٹرکٹنگ بنائی گئی ہے جو دیکھنے والے میں تیزاب گردی کا شکار ہونے والوں کے  لیے ہمدردیاور تیزاب پھینکے کی واردات کے خلاف غصہ اور نفرت پیدا کرتے ہیں۔

انہی کرداروں کی بحالی کے لیے جو کام کیے جا ر ہیں وہ  انٹرکٹنگ میں دکھائے جاتے ہیں جو دیکھنے والے کو ایک حوصلہ اور امید بھی دیتے کہ ہے اس حملے کا شکار بننے والوں کی بحالی کے لیے کچھ لوگ ہیں جو کام کر رہے ہیں۔

ڈاکومینٹری کے سکرین پلے کا تیسرا عنصر ریاست پاکستان کی مققننہ، عدلیہ اور انتظامیہ اور سول سو سائٹی  کی طرف سے ان حملوں کا سدباب کرنے کوششیں ہیں۔

ڈاکومنٹری میں ہمیں وہ بحث مباحبثے بھی نظر آتے ہیں جو ایسڈ تھروئنگ جیسے کرائم کے خلاف  سخت قانون  کی مانگ کر رہے ہیں۔

اس میں ہمیں رکن اسمبلی ماروی میمن کی جدو جہد بھی نظر آ رہی ہے جو انہوں نے اس جرم کے خلاف بل لانے کے لیے کی۔

اس کے بعد ہمیں قومی اسمبلی میں اس بل پر ہونے والی بحث بھی دیکھنے کو ملتی ہے جس کے بعد قومی اسمبلی وہ بل متفقہ طور پر منظور کر لیتی ہے اور تیزاب پھینکنے کی سزا عمر قید تجویز کی جاتی ہے۔

ڈاکومینٹری کے آخری حصے میں زکیہ اپنے وکیل سے ملتی ہے جو اسے نوید دیتی ہے کہ اس پر تیزاب پھیکنے والے کو عدالت نے دو بار عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

ڈاکومینٹری کا پیغام بڑا واضع ہے کہ پاکستان میں چند گندے انڈے ہیں جو تیزاب سے چہروں کو جلاتے ہیں لیکن اس ملک کی پارلیمنٹ جو کہ عوام کی نما ئندہ ہے وہ ایسے لوگوں کو کیفرِ کردار تک پہچانے کے لیے یک زبان ہے وہ قانون سازی کر رہی ہے۔

اس ملک کی عدلیہ ایسے مجرموں کو سزائیں سنا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ متاثر لوگوں کے دکھ درد اور غم کے مداوے کے لیے بھی کوشش ہو رہی ہے۔

اس پیغام میں پاکستان کا چہرہ کیسے مسخ ہوتا ہے؟

کیسے اس کی دنیا میں بدنامی ہوتی ہے؟

ڈاکومینٹری کا پیغام بالکل واضع ہے اگر کسی کو سمجھ نہ آئے تو پھر اس کی فہم کا قصور ہے یا تعصب کی اس عینک کا جو اس فلم کو دیکھتے ہوئے لوگ آنکھ پر لگا لیتے ہیں، صرف اس لیے کہ اس کو امریکا نے آسکر دیا ہے۔

امریکا تو پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور ایک خاتون کیسے یہ کام کر سکتی ہے وہ کیسے اس دوڑ میں بڑے بڑے جغادری مردوں سے آگے بڑھ سکتی ہے؟

شرمین کی ٹویٹ سے جو ہنگامہ برپا ہوا ہے اس سے ایک ہی بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ

چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے

کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے

بشکریہ: سجاگ

عامر رضا: فری لانس ڈرامہ نویس اور ٹی وی کے شعبہ سے وابسطہ ہیں، اور مختلف سیاسی و سماجی موضوع پر لکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے