ہراساں ہونا ۔۔۔مذاق تو نہیں

ہراساں ہونا ۔۔۔مذاق تو نہیں
نوشین نقوی
گزشتہ دنوں پاکستانی فلم میکر شرمین عبید چنائی نے یہ ثابت کیا کہ ابھی ہم اُتنے ’ حساس‘ نہیں ہوئے کہ کسی حساس موضوع کو بنا سوچے سمجھے سڑک پر زیر بحث لائیں،اور اس روےے کو سراہا جائے۔۔ہوا کچھ یوں کہ شرمین عبید چنائے نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر کچھ پیغامات پوسٹ کرتے ہوئے آغا خان ہسپتال (کراچی)کے ایک ڈاکٹر لتے لئے اور ڈاکٹر پر ہراساں کرنے کے الزام تک لگائے ۔
اس واقعہ پر اپنی ٹوئیٹس کے نتیجے میں شرمین عبید چنائے کو سوشل میڈیا پر لوگوں کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔اور یہ پہلا موقع ہے جب سوشل میڈےا یوزرز نے اس کاروائی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور شرمین کواپنے غےر ذمہ دارانہ رویہ کی قیمت اٹھانا پڑی ۔۔
جہاں ایک طرف خواتےن کو ہراساں کئے جانے پر کھل کر بات ہو رہی ہے اور ان امور کو زیر بحث لایا جا رہا ہے جو ہراساں کرنے کے زمرے میں تو ان لوگوں کے روےے بھی کھل کر سامنے آ رہے ہیں جو ہراساں کئے جانے کو محض ایک مذاق سے زیادہ سمجھنے کو تیار نہیں۔۔۔سادہ سا سوال ہے کہ ہراساں کئے جانا ہے کیا۔۔۔یا آپ کے ساتھ ایسا کیا ہوگا تو آپ سمجھیں کے آپ کو ہراساں کیا گیا ہے۔ایسی چند باتےں ہوں تو آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ آپ کو ہراساں کیا گیا ہے یا آپ کو تنگ کیا جا رہا ہے یا ایک ایسی کوشش کی جا رہی ہے جس سے آپ کو جنسی طور پر مخاطب کیا جا رہا ہے۔۔۔۔جنسی لحاظ سے گھورنایا اشارے کرنا۔مخصوص طرز سے ہنسنا/ مسکرانا جنسی ترغیبات۔دفتری یا گھریلو ماحول میں کسی فرد کے اوپر جھکنا یا اس کی ذاتی حدود میں داخل ہونا۔اِرادتاً جسم سے جسم کو چھونا( جس میں د وسرے فردکی رضامندی نہ ہواگرچہ کسی وجہ سے
د وسرا فرد خاموش ہی کیوں نہ ہو۔)آوازیں کَسنا، ہونٹوں سے نا پسندیدہ آواز نکالنا، جانوروں کی آواز نکالنا وغیرہ۔
فرینک نیس ثابت کرنے کے لئے جنسی لطیفے سنانا/جنسی مذاق کرنایا جنسی کارٹون بنانا اور دِکھانا۔جنسی ترغیب دینے والا مواد دِکھانا یا بے لباس تصویریں دِکھانا۔بس صِرف یہ ہی نہیں بلکہ،زنا بالجبر جنسی مقاصد کے لئے اغوا کرنا اور محرم رِشتہ دار سے جنسی ملاپ کرنا ،جنسی طور پر ہراساں کرنے کی زیادہ شدید صورتیں ہیں۔
پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں عور ت،اس کی اپنی سوچ، اس کی خواہش اور اس کے رویوں پر ان کا اپنا قابض ہونا قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا۔۔۔جہاں ایوانوں میں اس بات پر لڑائی ہوجائے کہ اگر ہم اپنی عورت کو آزادی دیں گے تو وہ بدکردار ہوجائے گی وہاں کوئی کام کرنے والی عورت یہ شکایت کرے کہ اسے جنسی طور پر پریشان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اس کی شکایت پر توجہ دینے کی بجائے اس کا مذاق اڑاےا جانا عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔
 ڈیرہ اسمائیل خان کے نواحی علاقہ میں چندمسلح افراد نے ذاتی دشمنی کی بنا پر مخالف خاندان کی 16سالہ لڑکی کو اس وقت برہنہ کرکے ایک گھنٹہ تک گاﺅں میں گھمایا جب وہ کنویں سے پانی بھر کر واپس گھر آ رہی تھی۔۔عینی شاہدین کے مطابق لڑکی چیختی چلاتی رہی،مدد کے لئے ان گاﺅں والوں کو پکارتی رہی لیکن کسی غےرت مندنے ا س کی مدد کی نہ اسے اپنا جسم لپیٹنے کے لئے چادر دی۔۔جی جی یہ وہی غےرت مند ہیں جو پسند کی شادی کی خواہش کرنے والی لڑکی کو غےرت کے نام پر قتل کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔۔۔۔پھر پتا چلا کہ اس واقعہ میں سیاسی لوگ بھی ملوث ہیں لیکن کوئی حیرت نہیں ہوئی جب سیاسی جماعتوں نے چپ کا روزہ نہیں توڑا کہ کیا ہوا ایک لڑکی ہی تو ہے کیا فرق پڑتا ہے اب عورت کے لئے آپسی دشمنیاں کیوں بنائی جائیں۔
اور اب ایک فلم کی کہانی کو لے کر کئی تحفظات کا احسا س دلایا گیا ۔۔سنسر بورڈ کو لگا جیسے فلم کے ریلیز ہوتے ہی سیاسی جماعتوں کے کریکٹر سرٹےفکیٹ سچ بولنے لگیں گے ”ورنہ“ فلم کے بارے میں بھی کئی لوگ چیخ چیخ کر یہ کہتے نظر آئے ۔۔۔معاف کیجئے۔۔ہمارے ہاں ریپ نہیں ہوتے!!کون کافر ہے جو ایسی خبریں پھیلاتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ریپ ہوتے ہیں۔۔عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر زندہ جلا دیا جاتا ہے یا کسی گندے نالے سے ان کی لاش ملتی ہے۔۔۔معاف کیجئے گا۔۔جہاں ہوتا ہوگا ،وہیں ہوتا ہوگا۔۔۔ہمارے ہاں کمسن بچیوں کی عزت بھی محفوظ ہے اور عمر رسیدہ عورتوں کی بھی۔۔۔جوان لڑکیاں آدھی رات کو بھی اگر کسی کام سے گھر سے نکلیں تو وہ مکمل محفوظ ہیں اس ملک میں کوئی بھی جرم ہوتا ہوگا مگر یہ سچ ہے کہ ریپ نہیں ہوتا۔۔اس لئے شعیب منصورکو چاہئے ایسی فضول پروپیگنڈا فلم اٹھائے اور جلا دے۔۔۔کیونکہ بھئی تمہیں اچھا لگے گا برا ،ہمارے ہاں ریپ نہیں ہوتے،عورتیں محفوظ ہیں نہ ان کی عصمت کشی کی جاتی ہے نہ ہی ان کو سڑکوں پر برہنہ گھما کے انسانیت کی تذلیل کی جاتی ہے ،یہاں کسی کو کسی سے کو ¾ی خطرہ نہیں۔۔۔اس لئے موم بتی مافیا بھی اپنی بکواس بند کرے۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے