’ورنہ‘ بھول جاؤ سنیما

مرکزی فلم سنسر بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ شعیب منصور کی فلم ’ورنہ‘ میں بہت سے قابل اعتراضات نکات ہیں۔ فلم گورنز پنجاب کے بیٹے کے گرد گھومتی ہے جس میں وہ لڑکی کا ریپ کر دیتا ہے اور لڑکی انصاف کی تلاش میں پورے نظام کی خامیوں کو ننگا کر دیتی ہے۔

انگریزی روزنامے ’ٹریبیون‘ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ فلم کی کہانی کا عمومی پلاٹ ریپ کے گرد گھومتا ہے جو ان کے مطابق قابل قبول نہیں ہے۔

اس فلم کو سنسر سرٹیفکیٹ نہ ملنے پر بہت زیادہ بحث کی جا رہی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ اصل مسئلہ فلم کی کہانی اور ٹریٹیمنٹ میں نہ ہو بلکہ معاملے  کا زیادہ تر حصہ فلم سنسر شپ کے قوانین اور سنیما کی افادیت کو سمجھنے کے بارے میں ہو۔

برصغیر میں فلم سنسر شپ کا پہلا قانون 1918ء میں سنما ٹو گرافک ایکٹ  کے نام سے متعارف کروایا گیا تھا۔

بظاہر اس ایکٹ کا مقصد ہندوستان کے اخلاق کی حفاظت تھا لیکن درپردہ اس قانون کے مدد سے فلم سے ریڈیکل اور قوم پرست نظریات کو نکالنا تھا۔

اس بات کی تصدیق اس سیاسی مراسلے سے بھی ہوتی ہے جو 1922ء میں اس وقت کے وائسرائے اور گورنز جنرل لارڈ ریڈ نگ نے ہندوستان کے امور کے وزیر ویسکونٹ پیل کو لکھا تھا۔

مراسلے میں کہا گیا تھا  کہسنسر شپ قانون کا مقصد صرف بیہودہ فلموں کو روکنا نہیں بلکہ ایسی فلمیں کی روک تھام بھی ہے جن میں کوئی سیاسی پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہو۔

اس قانوں کے تحت بہت سی فلموں پر پابندی لگائی گئی جن میں سوشلسٹ یا پھر نیشنلسٹ پیغام دینے کی کوشش کی جاتی تھی۔

1971ء میں نئی دلی سے شائع ہونے والے میگزین ’آج کل‘ نے بھارتی سنیما کے 75 سالوں پر ایک فلم نمبر شائع کیا جس میں مضمون نگار نند کشور وکرم  نے اس قانون کی زد میں آنے والی فلموں کا ذکر کیا ہے۔

اردو کے نامور افسانہ نگار منشی پریم چند نے ایک فلم ’مل مزدور‘ کے نام سے لکھی۔

فلم کی کہانی ایک مل مالک کے بیٹے اور بیٹی کے درمیان گھومتی ہے۔

بیٹا باپ سے ملنے والی مل کے مزدوروں کے ساتھ برا سلوک روا رکھتا ہے اور مزدوروں سے برا سلوک کرتا ہے جبکہ بیٹی مزدور دوست ہے۔ وہ مل کو بچانے کے لیے مل میں مزدوروں کی ہڑتال کروا دیتی ہے۔

اس فلم کو جب سنسر شپ کے لیے پیش کیا گیا تو اس میں سے بہت  سے سین کاٹنے اور کہانی  کو تبدیل کرنے کا  کہا گیا۔

فلم منشی پریم چند نے جب کٹی پھٹی فلم  دیکھی تو سوچ میں پڑ گئے کہ کیا یہ وہی فلم ہے جو انہوں نے لکھی تھی؟

ہدایت کار جینت ڈیسائی نے بردولی کی تحریک سے متاثر ہو کر اپنی فلم ’امرکرتن‘ میں اس کے کچھ مناظر شامل کیے تو فلم کو نمائش کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔

آر ایس چودھری نے مہاتما گاندھی سے متاثر ہو کر فلم ’بم‘ بنائی لیکن یہ فلم بھی اس وقت تک ریلیز نہیں کی گئی جب تک اس فلم کے ’قابل اعتراض‘ مناظر کاٹے نہیں گئے یہ فلم ’بندہ خدا‘ کے نام سے ریلیز ہوئی۔

بھارت اور پاکستان میں فلم سنسر شپ اسی ایکٹ اور اسی نظام سے ابھری ہے۔

بھارت میں تو وقت گزرنے کے ساتھ فلم سنسر شپ میں بہت سی تبدیلیاں آٗئیں لیکن پاکستان میں یہ قوانین نرم نہ ہو سکے بلکہ وقت کے ساتھ ان میں سختی کا عنصر غالب رہا۔

ڈبلیو زیڈ احمد کی فلم ’روحی‘ پاکستان میں اس لیے بین کی گئی کہ سنسر بوڑد کو اس وقت یہ گمان گذرا تھا کہ فلم سوشلسٹ نظریات کو پروان چڑھا رہی ہے۔

اس کے علاوہ فلم ’وعدہ‘ کے بارے میں بھی یہی نقطہ نظر اپنایا گیا تھا۔

’بلڈ آف حیسن‘ کے ڈائریکٹر کو تو ملک سے بھاگنا پڑا اور فلم شاید سرکاری طور پر ابھی بھی پاکستان میں بین ہے۔

فلم ’جناح‘ کو کرسٹوفر لی کے وجہ سے لمبے بحث مباحثے سے گزرنا پڑا۔

مشتاق گزدر اپنی کتاب پاکستانی سنیما میں لکھتے ہیں کہ وہ فلمیں جو سیاسی نظریات کو پیش کرتی تھیں یا جن پر ایسا کرنے کا گمان گزرتا تھا وہ بین کر دی جاتی تھیں۔

فلم ساز کا مقصد سیاسی سرگرمی کو ابھارنا یا جنم دینا نہیں ہوتا۔ اس کا بنیادی اور اولین مقصد فلم سے منافع کمانا ہوتا ہے۔

فلم ساز بیل کو لال جھنڈی نہ دکھانے کی حتی الامکان کو شش کرتا ہے۔ اس لیے ان کے مطابق پاکستان سنیما میں ایسی فلمیں بہت کم بننے لگیں جن میں کوئی سیاسی یا سماجی کمنٹ کیا گیا ہو۔

2006ء میں جیو ٹی وی کے لیے ڈائریکٹر کاشف نثار کے ساتھ ورلڈ سنیما اور عالمی سیاست پر ایک پروگرام ’تھرٹی فائیو ایم ایم ایٹ وار‘ کے نام سے شروع کیا۔

اس پروگرام کی ریسریچ  کے لیے پاکستان کے نامور کہانی نویس اور فلم ساز ناصر ادیب کا انٹرویو کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’فلم سنسر شپ نے ہمارے قلم کو جکڑ دیا ہے۔ نتیجتاً ہم سماجی اور سیاسی موضوعات کو فلموں کا حصہ نہیں بنا سکے۔ ہمارا قلم جاگیر دار، گنڈسے اور لو سٹوری کے درمیان گھومنے لگا‘۔

اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان پاکستان سنیما کو یہ ہوا کہ اس کا ہاتھ سماجی، سیاسی و معاشرتی مسائل کی نبض پر سےاٹھ گیا اور پاکستانی فلم معاشرے میں ہونے والی سیاسی و سماجی تبدیلیوں کو اپنے اندر نہیں سمو سکی جس کی وجہ سے یہ آرٹ لوگوں سے کٹ کر الگ ہوگیا۔

نئے موضوعات اور کہانی اس وقت ہی جنم لیتی ہیں جب کہانی کار اور فلم ساز جدید معاشرتی مسائل کو سمجھتے ہوں اور انہیں بیان کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

ایرانی فلمیں اس کی سب سے اچھی مثال ہیں۔

ایسی کہانیوں اور فلموں کو لوگ اپنے ساتھ آسانی سے منطبق کر لیتے ہیں۔

جو سنیما معاشرتی، سماجی اور سیاسی مسائل کے کٹ جاتا ہے وہ جلد ہی زوال پذیر ہو جاتا ہے۔

اگر وہ لو سٹوری بھی بیان کرتا ہے تو اس کے سنیماتی بیانیے میں کہیں نہ کہیں موجودہ حالات غالب رہتے ہیں۔

ایک دوسرے پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں سیاست دان اخبارات، ٹی وی اور سنیما ہر جگہ تنقید کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔

مشتاق گزدر کے مطابق اس کام کا آغا ز ایوب دور میں کیا گیا جب حکومت کی طرف سے پروپیگنڈہ کی غرض سے دستاویزی فلمیں بنائی گئیں۔

فلموں سازوں نے جب کبھی ’بلڈ آف حیسن‘ جیسی فلموں میں سول اور ملٹری بیوروکریسی پر تنقید کرنے کی کوشش کی توانہیں فلم کے پرنٹ سمیت ملک سے فرار ہونا پڑا۔

یہ تو جمیل دہلوی صاحب کی قسمت اچھی ہے کہ اس وقت نامعلوم افراد نہیں ہوتے تھے ورنہ ’بلڈ آف حسین‘ کا بچا کچھا پرنٹ ان سمیت ہی غائب ہوتا۔

اس کی نسبت بھارتی سنیما  میں سیاستدان کا پورٹرل اچھا اور برا دونوں طرح کا ملتا ہے۔

فلموں میں اسٹیبلشمنٹ کے اداروں پر بھی کھلے عام تنقید ملتی ہے۔

ہالی ووڈ کی تو گنگا ہی نرالی ہے۔ وہاں ویت نام جنگ پر جس قدر فلموں میں تنقید کی گئی ہے اتنی تنقید کسی اور میڈیم نے نہیں کی۔

لیکن وہاں بھی ایسی فلم بنانا جان جوکھوں میں نہیں تو مال جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ضرور ہے۔ کیوں پیٹنا گون ایسی کسی فلم کو ملٹری سپورٹ نہیں دیتا جو اس کے خلاف بنائی جائے یا جس کی کہانی سے وہ اتفاق نہ کریں۔

کتاب ’آپریشن ہالی ووڈ‘ کا مصنف ایسی بہت سی فلمیں گنواتا ہے جس کو پینٹاگان نے لاجسٹک مدد دینے سے انکار کیا۔ ان میں فرانسس فورڈ کپولا کی Apocalypse Now (حشر اٹھا دو) بھی شامل ہے۔

اس زاویے پر بھی سوچنے کے ضرورت ہے کہ پاکستان سنیما کے ستر سالوں میں سیاست دانوں کا امیج ہی زیادہ تر نشانے پر کیوں ہے؟

اس کے ساتھ ساتھ فلم سنسر شپ کے قوانین پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جس قدر تخلیقی آزادی کم ہوتی جائے گی سنیما کا دامن بھی اسی قدر سکڑتا جائے گا۔

جو لوگ پاکستانی سنیما کے احیا کے لیے کام کر رہے ہیں، انہیں فلم پالیسی اور سنسر شپ کے قوانین کے لیے بھی اقدامات اٹھانا پڑیں گے۔

تحریر : عامر رضا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے