پیر , 13 جولائی 2020

حکومتی وعدوں سے بیزار شخص نے خود ہی جنگل سے راستہ نکال لیا

کینیا حکومتی وعدوں اور بار بار کی تاخیر سے پریشان شخص نے اپنی مدد آپ کے تحت دشوار گزار جھاڑیوں سے راستہ نکالتے ہوئے دو کلومیٹر طویل سڑک بنالی جسے لوگوں نے سراہتے ہوئے اسے ایک ’ہیرو‘ قرار دیا ہے۔

کینیائی دارالحکومت نیروبی سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر کیگینڈا نامی ایک گاؤں واقع جہاں کے لوگوں کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ حکومت گھنے جنگل کے درمیان کوئی سڑک بنادے تاکہ وہ قریبی بازار تک پہنچ سکیں بصورت دیگر انہیں وہاں تک جانے کے لیے گھوم کر چار کلومیٹر تک پیدل چلنا پڑتا تھا لیکن حکومت کی عدم توجہی کی بنا پر یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔

45 سالہ نکولس میوشامی دن میں مزدوری اور رات میں چوکیداری کرکے اپنا پیٹ پالتے ہیں لیکن ایک روز انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے راستہ بنائیں گے اور انہوں نے صرف چند دنوں میں گھنے جنگل سے دوکلومیٹر کا راستہ بنایا ہے۔ تاہم اس نے صبح 7 بچے سے شام کے 5 بجے تک رکے بغیر کام کیا اور اس انتھک محنت کے نتیجے میں اس نے ڈیڑھ کلومیٹر سے کچھ زیادہ کا علاقہ صاف کرلیا ۔ اب یہ راستہ اتنا چوڑا اور صاف ہے کہ اس پر آسانی سے ایک گاڑی بھی گزرسکتی ہے۔

’ میں نے ہر حکومتی ادارے اور اہلکاروں سے درخواست کی لیکن کسی نے بھی توجہ نہیں دی۔ اس کے بعد میں اپنے گاؤں کی خواتین اور بچوں کے لیے ازخود راستہ بنانے کا تہیہ کیا اور یوں اپنے اوزار سے گھنے جنگل میں سڑک بنائی،‘ نکولس نے کہا۔

اب صرف نصف کلومیٹر کی سڑک باقی بچی ہے جسے وہ جلد مکمل کرلیں گے لیکن لوگ اسے اب بھی سے استعمال کرنا شروع ہوگئے ہیں جن میں اسکول کے بچے بھی شامل ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اسے تنہا کام کرتا دیکھ کر علاقے کے کسی بھی فرد نے مدد نہیں کی اور جب جب ان سے مدد کو کہا گیا تو انہوں نے اس کے لیے معاوضہ طلب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے