جمعرات , 6 اگست 2020

لڑکپن کے یادیں

لڑکپن کے یادیں
چند ماہ قبل شام کو باہر نکلا تو محلے کے لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے، سوچا ان کے ساتھ تھوڑی دیر کھیل کر لڑکپن کے یادیں تازہ کی جائیں۔

باؤلنگ کروائی تو ایک اوور کے بعد ہی سانس پھول گیا۔ فیلڈنگ کرنے کی کوشش کی تو جیسے بھاگنے کا طریقہ ہی بھول چکا تھا۔ بیٹنگ کرنے آیا تو ریفلیکسز انتہائی سلو ہوچکے تھے، مجال ہے کہ کوئی ایک گیند بھی ٹھیک طرح سے ٹائم ہوئی ہو۔

وہ شام اوراگلا سارا دن اسی پریشانی میں گزر گیا کہ میری فٹنس کو کیا ہوا؟ انٹرنیٹ کے دور کا لائف سٹائل ہی ایسا ہے کہ آپ کی فزیکل ایکٹیویٹی ختم ہوجاتی ہے، اوپر سے انواع و اقسام کے غیرصحت بخش کھانے مزید بربادی کا سبب بنتے ہیں۔

وزن چیک کیا تو وہ توقع کے عین مطابق کافی زیادہ ہوچکا تھا۔

میرے سر پر جیسے کسی نے بم پھوڑ دیا ہو۔ اگلے دن ایک ڈائٹیشن سے اپوائنٹمنٹ لی اور مشورہ کرنے چلا گیا۔ خاتون نے کچھ بلڈ ٹیسٹ وغیرہ کروائے، ایک سوالنامہ پر کرنے کو دیا، پینتالیس منٹ کا انٹرویو کیا اور پھر میرے ہاتھ میں ایک ڈائیٹ اور ایکسرسائز پلان تھما دیا۔

آپ کو یاد ہوگا کہ چند ماہ قبل میں نے وزن کم کرنے کے حوالے سے ایک پوسٹ کی تھی، یہ انہی دنوں کی بات ہے۔

خیر، ڈائیٹ پلان میں کاربوہائیڈریٹس تقریباً بند کردیئے گئے تھے، دودھ، پھل، دالیں، روٹی، چاول، سب کچھ بند تھا۔ صرف انڈے، گوشت، سبز رنگ کی سبزیاں، دیسی گھی اور مکھن کی اجازت تھی۔

شروع شروع کے چند دن تو ڈائٹنگ کے جوش میں گزر گئے ۔ ۔ ۔ پھر آہستہ آہستہ روایتی کھانے کی طلب محسوس ہونا شروع ہوئی ۔ ۔ ۔ ایک بار دوستوں کے ساتھ صبح ناشتہ کیلئے گیا، انہوں نے حلوہ پوڑی، نان چنے اور مغز پائے آرڈر کئے ۔ ۔ ۔ جبکہ میں نے دو ابلے ہوئے انڈوں اور سیاہ کافی پر ہی گزارا کیا۔ دوستوں نے بہت اصرار کیا کہ کچھ چکھ تو لوں، میرا بھی دل بہت چاہ رہا تھا لیکن پھر یہ سوچ کر ہاتھ واپس کھینچ لیا کہ پچھلے دو ہفتوں کی ڈائٹ کے جو ثمرات ملے تھے، وہ سب ختم ہوجائیں گے اور کھویا ہوا وزن دوبارہ چڑھ جائے گا۔

ایک دن رات کو بھوک لگی، مٹن کے سینے کے گوشت کا پلاؤ اور مٹن کا شوربے والا سالن پکا تھا ۔ ۔ ۔ ہاتھ بڑھا کر تھوڑا سا کھانے کا سوچا، پھر یہ یہ سوچ کر ارادہ ملتوی کردیا کہ خوامخواہ جسم پر فالتو چربی چڑھانے کا کیا فائدہ؟ چند ماہ کی قربانی دے لوں، جب وزن نارمل ہوجائے گا تو پھر جو چاہے کھالوں گا۔

اس کے ساتھ ساتھ میں نے انٹرنیٹ پر کاربوہائیڈریٹ کے بغیر دیسی ریسیپیز ڈھونڈنا شروع کردیں۔ ناریل کے آٹے سے چپاتی بنانے کی ترکیب ملی، باداموں کے آٹے سے پین کیک بنانا سیکھا، اسی آٹے سے ناریل کے تیل میں فرائیڈ چکن کی ریسیپی بھی ڈھونڈ نکالی۔

الغرض، میں نے پوری ایمانداری سے اپنے جسم سے فالتو چربی نکالنے کی جدوجہد جاری رکھی۔ عالم یہ تھا کہ تنہائی میں بھی اگر کسی میٹھی چیز کو دیکھتا تو آنکھیں بند کرلیتا، مبادا کہیں اپنا ارادہ متزلزل نہ کروا بیٹھوں۔

آج صبح آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے پتہ نہیں کیوں خیال آیا کہ جسم کی فالتو چربی سے نجات حاصل کرنے کیلئے تو اتنی جدوجہد، اتنی ایمانداری سے محنت کی، لیکن کبھی اپنے گناہوں کی چربی ختم کرنے کی کوئی فکر نہ کی۔ چاہے کوئی نہ بھی ہو، پھر بھی میں کسی میٹھی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتا، لیکن ہر وقت اللہ کی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہوں اور اس کے باوجود گناہ سرزد ہوجاتے ہیں اور مجھے ذرا بھی ملال نہیں ہوتا۔

یہ سوچتے سوچتے مجھے لگا کہ میرے سامنے آئینے میں میرا وجود نہیں بلکہ بُوٹا کھڑا ہے ۔۔۔۔ قبل اس کے کہ وہ مجھے گندی گالیاں دیتا، میں فوراً برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر وہاں سے بھاگ آیا۔ ۔ ۔

لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ بُوٹا اب بھی کہیں میرے پاس موجود ہے ۔ ۔ ۔

اس بُوٹے کو اہمیت دیں ۔ ۔ ۔ اس بُوٹے کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں!!!
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے