ہفتہ , 4 جولائی 2020

ایران کا ٹارگٹ 3ممالک

میڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017 میں قاسم سلیمانی کو اہم شخصیت کی فہرست میں شامل کیا گیا۔عراق کے اندر ہونے والے مظاہروں میں جب امریکی سفارت خانے کو آگ لگانے کا واقعہ رونما ہوا تو امریکہ اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ علاقے میں جنرل قاسم سلیمانی، اس کے مقاصد اور مفادات میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ یہ جنرل قاسم سلیمانی ہی ہے جو حوثی باغیوں کو منظم کرنے،
حزب اللہ کو تقویت دینے اور خطے میں امریکی مفادات کے خلاف سرگرم تنظیموں سے بھی رابطوں میں ہے۔لہذا قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو اس واقعے کو ایران عراق تنازعہ کے پس منظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے جس میں براہ راست سعودی عرب کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا لیکن ایران کی جوابی حکمت عملی اور اس کی جانب سے ممکنہ ردعمل کے حوالہ سے یہ امکانات ضرور ہیں کہ ایران شاید براہ راست امریکہ پر حملہ آور نہ ہو لیکن وہ اس کے اتحادیوں کو خصوصاََ سعودی عرب کے خلاف کوئی بڑا ردعمل ظاہر کر سکتا ہے۔ جہاں پر وہ ایسی وار کی پوزیشن میں تو ہے لیکن بظاہر امریکہ پر حملہ آور ہونے کی پوزیشن میں نہیں۔جہاں تک امریکہ کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کو ٹارگٹ کرنے کی ٹائمنگ کا سوال ہے تو ایک جانب خطے میں امریکہ پھنستا نظر آرہا ہے۔ افغانستان سے اس کے قدم اکھڑ رہے ہیں تو دوسری جانب اس نے جنرل قاسم سلیمانی کو ٹارگٹ کر کے کم از کم اپنی انتخابی مہم کے لیے بڑا ٹارگٹ ضرور حاصل کر لیا ہے جیسے اس سے قبل اسامہ بن لادن کو ٹارگٹ کرکے امریکی انتظامیہ نے اپنی بڑی فتح قرار دے دیا تھا اس کا اصل فائدہ امریکہ نے حاصل کیا تھا۔ جہاں تک اس اقدام کے خطے میں اثرات کا تعلق ہے تو یقینا اس سے خطے میں جنگ کے بادل منڈلاتے نظر آئینگے۔خصوصاََ مشرق وسطی میں سعودی عرب ، ابوظہبی سمیت دیگر امریکی اتحادی آلرٹ ہو گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے