بدھ , 12 اگست 2020

جنرل رانی اور انگور کا پانی

جنرل رانی اور انگور کا پانی
تحریر: محمد امان اللہ
maniptv@gmail.com
حمود رحمان کمیشن کے سامنے بریگیڈیئر میجر منور خان نے بیان دیا کہ 1971 میں گیارہ اور بارہ دسمبر کی درمیانی شب جس رات دشمن کی فوج ہماری فوجیوں پر آگ کے گولے برسا رہی تھی۔ اُسی رات کو کمانڈر بریگیڈیر حیات اللہ،اپنے بینکر میں عیاشی کے لیے لڑکیوں کو لے کر آیا تھا۔ کمیشن کو بریگیڈیر عباس بیگ نے بتایا کہ بریگیڈیر جہانزیب ارباب جو کہ بعد میں ّّّّ لیفٹنٹ جنرل بنے ملتان میونسپل کمیٹی کے چیئر مین تھے اُنہوں نے ایک سی ایس پی آفسر سے رشوت کے طور پر ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ آفسر نے خود کشی کر لی اور اپنے پیچھے پرچی پر لکھا چھوڑ گیا کہ بریگیڈیئر جہانزیب ارباب نے اُس سے ایک لاکھ روپے مطالبہ کیا حالانکہ اُس سے صرف پندرہ ہزار روپے کمائے تھے۔ یہی جہانزیب ارباب تھا جس نے بعد ازاں بطور کمانڈر سابق مشرقی پاکستان میں بریگیڈ 57 براج گنج میں نیشنل بینک خزانے سے ساڑھے تین کروڑ لوٹے تھے ۔ کپٹن کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ میجر جنرل خداداد خان ایڈوجنٹ جنرل پاکستان آرمی کے نہ صرف مشہور زمانہ جنرل اکلیم اختر عرف جنرل رانی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے بلکہ اُس نے مارشل لاءکے دور میں کئی مقدمات دبانے میں جنرل رانی کی معاونت بھی کی تھی۔ جنرل رانی ہماری حکومتی تاریخ کا ایک ذخیم لیکن رنگین باب تھی۔ اس کے سینے میں کئی راز ہائے سربستہ دفن ہیں ۔ وہ واحد عورت تھی جو بتا سکتی تھی کہ کس کس دور میں اُس کی کون کون سی مہاسر ہم جھولیوں نے ایوان ہائے اقتدار میں شراب و شہباب کی محافل آراستہ کرنے کی ذمہ داری لے رکھی تھی۔وائے افسوس کہ یہ راز اُن کے پیوند خاک ہوتے ہی رزق خاک بن گئے۔ ان جگر دار اور چٹکارے دار خواتین کو جنرل نیازی خوشبودار دیوداسیاں کہا کرتے تھے۔ ان دیوداسیوں نے اس معاشرے اور مملکت میں پنجتارہ ادا فروشی اور حیا فروشی کو متعارف کروایا ۔ جنرل رانی پنجتارہ، ادا فروشی کی بانیوں میں سے ایک تھی۔ ، جنرل یحیٰ خان کے اہل اقتدار میں رانی کا چرچا ہوا۔ راجہ رانی کی رنگ ریلیوں اور چونچلوں کی ہوش رو با داستانیں یحیٰی خان کے ایوان اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد منظر عام پر آئی۔ رانی اور جنرل یحیٰ خان کے مابین گُل و بلبل اور شمع و پروانا کا ساتھ تلسماتی تعلق تھا۔ یحیٰ خان بوجود اُن پر جان جھڑکتے تھے ۔ اُس دور کی بیوروکریسی اور سیاست کی کئی دیگر جرنیل بھی ا کلیم اختر عرف جنرل رانی کی چشم سرمدی سے شراف التواط کشید کرتے رہے ۔ جنرل رانی کی رقابت اگر کسی سے تھی تو وہ ملکہ ترم نور جہاں تھی۔ بھٹو دور میں جنرل رانی نے اپنے ڈیڑے شاہرائے قائد اعظم پر واقع انٹر کونٹینٹل کے ایک سویٹ میں آباد کر رکھے تھے۔ وقت کے حکمران اُن کے آستانے پر جبین نیاز لے کر حاضر ہوتے اور اپنے شرارتی من کی مرادیں پاتے۔ کھر گورنر بنیں تو اس قسم کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئی کہ جنرل رانی کی جلوہ گاہے جمال و وصال سازشوں کا گڑ بن رہی ہیں۔ نیلے آسمان کی بوڑھی آنکھوں نے اس طا قت ور عورت کی دہلیز پر جانے وقت کے کتنے اعلیٰ افسران کو ناسیہ فرسائی کرتے دیکھا ۔ آسمان نے رنگ بدلا ، حالات نے پلٹا کھایا ، لیلو نہال کی گردش نے کروٹ لی ۔ پنجاب پولیس حرکت میں آئی ایک شب جنرل رانی کو بمعہ سازو سامان سازش گاہ سے حفاظتی حراست میں لے کر کوٹوالی تھانے پہنچا دیا گیا۔ کوٹوالی تھانے کے حوالات میں بیسوی صدی کے جہانگیر کی یہ نور جہاں مزار بے کسی بنی دیدہ ابرت نگاہ کو دعوت کو غور و فکر دے رہی تھی۔ اخباری نمائندوں کو اطلا عی ملی تو ہر کوئی بھاگم بھاگ کوٹوالی پہنچا۔ تھانے کا وسیع و عریض احاطہ رپورزٹر فوٹو گرافرز کی فوج ظفر موج کے سامنے تنگ دامنی کا شکوہ کرنے لگا۔ با رسوخ اخباری نمائندوں کو موصوفہ تک پہنچنے کی خصوصی اجازت دے دی گئی۔ وہ تصویر بے بسی بنے سر جھُکائے ہر سوال سنتی رہی لیکن کسی بھی سوال کا معقول جواب دینا اُس نے مناسب نہ جانا۔ صحافی چُٹکی بھرتے یحیٰ خان کے حوالے سے یادوں کو ساز دینے کی استدعا کرتے لیکن جنرل رانی کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہوں نہیں۔ بعد ازا خرابی بس یار اُس کے ہونٹ پھڑ پھڑائے اور اُس نے کپکپاتے لہجے میں جواب دیا کہ بس نقشہ بگڑ گیا۔ سمندر کے پاتال اور آسمان کی پہنایﺅں سے خبر دھونڈ نکالنے والے کھوجی رپورٹرز بسد حسرتوں مراد ناکام لوٹے وہ یہ نہ جان سکے کہ کون سا نقشہ بگڑ گیا۔ اُس رات یہ کھوجی کوئی بڑی خبر حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ کھر دور میں جنرل رانی مفرور اشتہاری ملزموں کی طرح جا بجا چھُپتی پھرتی رہی۔ اگلے وقت کے مہربانوں کے دروزے در توبہ کی طرح بند ہو چُکے تھے ۔ نیا ایوان اقتدار اُن کے لیے شجر ممنوعہ تھا۔ نیا زمانہ تھا ساز و راگ بدل چُکے تھے۔ جنرل رانی کو زندگی میں پہلی بار اس قسم کے نا خوشگوار حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے آشناﺅں سے رابطہ کرتی۔ ہر ایک کی منت سماجت کرتی جا ئے عامہ اور دارالاامان فراہم کرنے کی بنتی کرتی۔ لیکن نئے دور میں حکمرانوں کی اعتاب سے بچنے کے لیے ہما نوئی بیوروکریسی کے اسفند یار اور افرا سیاب بھی اپنی اس چہتی سے آنکھیں چُرانے لگے۔ وہ روایتی طوطے کی طرح صاف آنکھیں پھر چکے تھے۔ کُچا کُچا کو بکو قریہ قریہ خاک چھانے کے بعد اُس معلوم ہوا کہ پورے پاکستان میں اگر کوئی ایک شخص اُسے پناہ دے سکتا ہے تو وہ لاہور کا ایک صحافی ہے۔ ایک رات اُس صحافی کے گھر ٹیلی فون کی گھنٹی بجی صحافی کی بیگم نے ٹیلی فون کا رسیور اُٹھایا۔ دوسری جانب خوفزادہ لہجے میں ایک خاتون موجود تھی کہنے لگی بیگم صاحبہ مجھے پناہ چاہیے۔ میں ایک مظلوم خاتون ہوں۔ مجھے زمانے نے دُھتکار دیا ہے کل تک میری چوکھٹ بڑی بڑی نامور پیشانیوں کی سجدہ گاہ تھی اور آج میں جس بھی دروزے پر جاتی ہوں مجھے کھوٹے سکے کی طرح لوٹا دیا جاتا ہے۔ نامور صحافی کی بیگم نے کہا کہ آپ جانتی ہیں کہ آپ نے کس کے گھر فون کیا ہے۔ رانی نے بتایا کہ میں نے آپ کے شوہر آغا شورش کاشمیری کی جگر داری اور بہادری کی دستانیں سُن رکھی ہیں۔ مجھے میرے ملنے والوں نے بتایا کہ وہ مظلوموں کا ساتھ دینے میںکبھی ہچ کچاہت محسوس نہیں کرتے۔ بیگم صاحبہ نے کہا آغا صاحب اس وقت آرام کر رہے ہیں۔ وہ جب سو رہے ہو تو ہم میں سے کسی کی بھی جُرت نہیں ہوتی کہ اُنہیں جگا سکیں۔ وہ جب لکھنے میں مصروف ہوں یا آرام کر رہے ہوں۔ تو کسی قسم کی مداخلت یا خلل برداشت نہیں کرتے ۔ ایک دو گھنٹے گزرنے کے بعد فون کی گھنٹی دوبارہ بجی دوسری جانب بولنے والی خاتون نے یہ اعلان کیا کہ میں انتہائی مجبور ہوں
میرے پاس بوجو اس کے کہ چارہ نہیں کہ میں نفس و نفیس آپ کے دولت قدے پر حاضر ہو جاﺅں۔ چند گھنٹے گزرنے کے بعد رات کے پچھلے پہر جنرل رانی آغا شورش کاشمیری کے دروزے کر گھر کے باہر موجود تھی آغا صاحب کو با امر مجبوری نیند سے جگایا گیا۔ وہ باہر آئے اور پورشش احوال کی۔ جنرل رانی نے حکومتی مظالم کی ایک طوفانی داستان سنائی۔ اور اُس کے بعد پناہ کی طالب گار ہوئی آغا صاحب نے کہا کہ میں تمیںتا دیر یہاں اپنے پناہ نہیں دے سکتا۔ یہ سُننا تھا کہ جنرل رانی نے ایک زخیم البم آغا صاحب کو پیش کیا اور کہا کہ اس البم میں پاکستان کے سول اور ملٹری بیوروکریٹس سیاست دانوں اور سرمایہ داروں کے زندگی کے مخفی گوشے تصویری زبان میں حقیقت حال بیان کر رہے ہیں۔ آغا صاحب نے جنرل رانی کو اپنے ہاں ایک رات ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔ یہ رات جنرل رانی نے آغا شورش کاشمیری کے گھر کے عقب میں بھینس کے لیے بنے ایک چھپڑ کے نیچے گزاری ۔ پنجتارہ ہوٹلوں ، صدارتی محلوں اور وزارتی ایوانوں کی مخملی اورگوداس بستروں پر راتیں بسرکرنے کی عادی خاتون کے لیے یہ رات یقین قیامت کی رات تھی ۔ صبح ہوتے ہی وہ چل دی۔ آغا صاحب نے و اُس کے دیے ہوئے تحفے کو اُس کی آنکھوں کے سامنے نذر آٹش کر دیا۔ کہا کہ اقتدار سے محروم ہونے والے لوگوں کے عیب اُچھالنا بذدلوں کا کام ہے۔ آج تم یہ تصویریں اُٹھائے پھر رہی ہو کل تم ان لوگوں کے نگار خانہ عیش کی رونق ہو گی۔ آغا صاحب نے جو کچھ کہا وہ سچ ثابت ہوا ۔ بھٹو حکومت سے جنرل رانی کی خفیہ ڈیل ہو گی ۔ جنرل رانی بھی زیر زمین چلی گئیں۔ اور اُس کے بارے میں اُچھالے جانے والی رنگین داستانوں پر بھی پردہ ڈال دیا گیا۔ ایک غیر معمولی انٹرویوں میں جنرل رانی نے انکشاف کیا کہ ایک رات آغا جانی مجھ سے ملنے آئے تھے اور کسی حد تک بے چین تھے آتے ہی مجھ سے پوچھا کہ تمہیں فلم دی رانی کا گانا میری چھیھیدا چھلا آتا ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میرے پاس گانے سُنے کا وقت کہا ہے اُسی وقت اُنہوں نے
ملٹری سیکر ٹری کو فون کیا اور نغمے کی کاپی لانے کا حکم صادر کیا۔ رات کے دو بجے کا وقت تھا۔ بازار بند تھے ملٹری سیکر یٹری کو ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک آڈیو البم کی دوکان کھلوا کر گانے کی کاپی حاضر کرنا پڑی۔ جس کے بعد آغا جانی خوشی خوشی نغمہ سُن رہے تھے۔ ہر دور کسی نا کسی جنرل رانی اور اُس کی بٹالین کی حکمرانی کا دور ہے۔ جنرل رانی مر چُکی مگر وہ مطمئن ہے کہ اُس کی روح زندہ ہے وہ مطمئن ہے کہ اُس کے بعد بھی اقتدار کے ایوانوں میں کسی نہ کسی جنرل رانی کے قہقہوں اور چہچہوں پر دل و جاں نثار کرنے والے رنگیلے یہحیٰ خان موجود ہیں۔ جنرل رانی صرف ایک نام نہیں وہ صرف ایک عور ت نہیں بلکہ وہ ایک استیارہ اور ادارہ تھی۔ یہ ادارہ اب نا قابل تسخیر حد تک مستحکم ہو چکا ہے جنرل رانی نے مخدر تبقات کے ایوانوں کو ہرنیوں تیتلیوں بلبلوں اور مینوﺅں سے سجانے کا فن متعارف کروایا تھا۔ یہ فن اب بالغ ہو چُکا ہے جنرل رانی کل بھی ایوان اقتدار پر قابض تھی اور اُس کی تربیت یافتہ کئی دیگر کاریگر اور فنکارانیاں آج بھی ایوان ہائے اقتدار کی انٹیریر ڈیکوریشن میں مصروف ہیں۔ ایک تقریر کے دوران سقو ط مشرقی پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے آغا شورش کاشمیری نے کہا تھا کہ اس کے ذمہ دار ان گنت ہیں لیکن اُن میں انگور کا پانی اور جنرل رانی نمایاں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے