بدھ , 8 جولائی 2020

جی ایچ کیو کے اندر مارشل لاء

جی ایچ کیو کے اندر مارشل لاء

تحریر: محمد امان اللہ
maniptv@gmail.com

یہ لڑائی پہلی مرتبہ 1958 میں لڑی گئی جب میجر جنرل اسکندر مرزا کو پستول دکھا کر جنرل ایوب نے اقتدار پر قبضہ کیا. دس سال بعد جنرل یحی کی قیادت میں فوجی جرنیلوں کے گروپ نے سیاسی چال چلتے ہوئے بار بار توسیع لینے والے جنرل ایوب کے خلاف چند سیاسی پارٹیوں کو استعمال کر کے احتجاج کروایا اور “ایوب کتا ہائے ہائے” کے نعرے لگوائے جس کی وجہ سے ایوب خان کی طبیعت ناساز ہوئی اور اس کو ہسپتال جانا پر گیا. ہسپتال میں جنرل یحی نے پستول دکھا کر جنرل ایوب کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا.
1988 میں بار بار توسیع لینے والے جنرل ضیاء کو اس کے مخالف جرنیلوں نے آموں کی پیٹی کی مدد لے کر اقتدار کے ساتھ ساتھ زندگی سے بھی محروم کر دیا. آموں کی پیٹی جہاز میں کس نے رکھوائی, یہ راز آج تک نہ کھل سکا. 2007 میں بالکل حالیہ دنوں جیسی لڑائی جنرل مشرف اور جنرل کیانی کے گروپوں کے درمیان ہوئی جس میں جنرل کیانی نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری کو استعمال کرتے ہوئے جنرل مشرف کو بالکل بے بس کر دیا اور بعد میں جنرل کیانی نے جنرل یحی کی طرح پستول دکھا کر جنرل مشرف کو خاموشی سے اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا.
پاکستان میں اقتدار کی لڑائی کبھی سیاسی قوتوں کے درمیان نہیں ہوتی بلکہ یہ لڑائی ہمیشہ جی ایچ کیو میں لڑی جا تی ہے. حالیہ دنوں میں جاری یہ جنگ دو گروپوں کے درمیان ہے. پہلا گروپ جنرل باجوہ کا ہے جو جنرل باجوہ کی بحیثیت سربراہ مزید تین سال کی توسیع چاہتا ہے. اس گروپ میں وہ تمام کور کمانڈر شامل ہیں جو جنرل باجوہ کی عنایات کی بدولت دونوں ہاتھوں سے مال سمیٹ رہے ہیں. دوسرا گروپ جنرل سرفراز ستار کا ہے جو باجوہ کی ریٹائرمنٹ چاہتا ہے. سرفراز ستار اس وقت باجوہ کے بعد سب سے سینیئر جرنیل ہونے کے ناطے فوج کی سربراہی کا سب سے بڑا امیدوار ہے اور اس کا گروپ انتہائی طاقتور ہے کیونکہ اس میں وہ تمام تھری سٹار جرنیل شامل ہیں جو بطور آرمی چیف باجوہ کی ملازمت میں توسیع کی صورت میں فور سٹار جنرل بننے سے محروم رہتے ہوئے ریٹائر ہو جائیں گے.
مصدقہ اطلاعات کے مطابق سرفراز ستار گروپ نے مولانا فضل الرحمن کے زریعے ایک ملک گیر سیاسی احتجاج کروایا تاکہ جنرل باجوہ کو توسیع دینے والی سولین حکومت پر دباو پڑے اور وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو جائے. دوسری طرف سپریم کورٹ میں جنرل باجوہ کی توسیع کے خلاف درخواست داخل کروائی گئی اور پھر جسٹس کھوسہ کی مدد سے قانونی اعتراض اٹھاتے ہوئے آرمی چیف کی توسیع کو متنازع بنوا کر پارلیمنٹ میں قانون سازی سے مشروط کروا دیا گیا. توسیع کو قانون سازی سے مشروط کرنے کے پیچھے جو مقصد کارفرما تھا وہ یہ تھا کہ جب توسیع کے لیئے قانون سازی ہو تو فوجی سربراہ کی تعیناتی سے متعلق آئینی شق میں امیدوار کے سینیئر ترین ہونے کی شرط ڈلوا دی جائے. درحقیقت آرمی چیف کا ملازمت میں توسیع لینا ڈکٹیٹروں کا ایجاد کردہ ایک غیر قانونی عمل تھا اور اس عمل کا ذکر آئین میں کہیں موجود نہیں. جنرل سرفراز اور اس کے ہمنوائوں نے عدالت کے زریعے اس راز کو آشکار کر دیا تاکہ جنرل باجوہ پر اخلاقی دباو کے ساتھ ساتھ قانونی دباو بھی ڈالا جا سکے.
جنرل باجوہ نے جوابی چال چلتے ہوئے پہلے اپوزیشن پارٹیوں کو مولانا فصل الرحمن کے احتجاج میں شمولیت سے روکا جس کی وجہ سے مولانا اپنے سیاسی احداف حاصل کرنے میں ناکام رہا. پھر عدالتی درخواست دائر ہونے کے بعد باجوہ نے جسٹس کھوسہ پر دباو ڈالتے ہوئے سولین حکومت کو قانون سازی کے لیئے 6 ماہ کا وقت دلوا دیا. اسی دوران جنرل باجوہ نے جنرل سرفراز کی جگہ ایک جونیئر جرنیل ندیم رضا کو جوائنٹ چیف بنوا دیا تاکہ فوج کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اور ایک جونیئر افسر کی ترقی پر سرفراز ستار قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دے. لیکن سرفراز ستار نے روایات کے برخلاف ریٹائرمنٹ لینے سے اجتناب کرتے ہوئے ایک طرح سے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے. یاد رہے کہ جنرل سرفراز نے ستمبر 2020 میں ریٹائر ہونا تھا تاہم جنرل ندیم رضا کے جوائنٹ چیف بننے پر فوجی روایات کے مطابق جنرل ستار کو فوری طور پر ریٹائر ہو جانا چاہیئے تھا. جنرل سرفراز کے ریٹائرمنٹ نہ لینے کا مطلب صاف ہے کہ یہ جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے.
ملک کے اصل اقتدار کی خاطر جرنیلوں کے درمیان ہونے والی جانے والی یہ جنگ ملکی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے. یہ جنگیں پچھلے ستر سالوں سے ہوتی آرہی ہیں لیکن ایسی لڑائیوں سے عوام کو ہمیشہ بے خبر رکھا جاتا ہے. عوام کی توجہ بٹانے کے لیئے سیاسی مہروں کو پارلیمنٹ یا سڑکوں پر لڑایاجاتا ہے. کبھی دھرنے کروائے جاتے ہیں تو کبھی احتجاج اور اس کی آڑھ لے کر جرنیل درپردہ اپنی کاروائیاں کر گزرتے ہیں.
جنرل سرفراز ستار گروپ نے جنرل کیانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے ہمنوا چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی مدد سے جنرل باجوہ پر ایک کاری ضرب لگائی لیکن چیف جسٹس کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل سرفراز ستار کی امیدیں دم توڑ گئی۔
ووٹ کو عزت دو ۔ روٹی کپڑا مکان اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والی ساری جماعتیں جی ایچ کیو(GHQ) کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر کے اپنے حامیوں کے آنکھوں میں دھول جھونک کے مزے سے باجوہ کو تین سال کے لیے اس ملٹری سٹیٹ کا سربراہ بنا دیا ۔ اس جنگ میں کامیابی ایک بار پھر ڈنڈا پیر کی ہوئی اور جنرل باجوہ نے تاریخ دھراتے ہوئے GHQکے اندر مارشل لاءلگادیا اور اپنے ہی پیٹی بھائی کا آرمی چیف بننے کا خواب چکنا چور کر دیا۔ بلکہ کئی ٹھری سٹار جرنلز کے مستقبل کے آگے فُل سٹاپ (Full Stop) لگا دیا۔
جنرل باجوہ کی اس فتح کے بعد پنجابی کی یہ کہاوت یاد آئی” اندھا ونڈے ریوڑیاں تے مڑ مڑ دیوے اپڑیاں نو“ یعنی آرمی افسروں کی وہ فوج ظفر موج اس پورے ملک کی بھاگ دوڑ با قاعدہ طور پر سنبھال لے گی ۔ کوئی NHAتو کوئی CPEC, تو کوئی سفیر تعینات ہو گیا۔ عرض یہ کے 1947 کے پاکستان اور قائد اعظم کے خوا ب تکمیل بخوبی انجام پاگئی۔ کہیں تبدیلی ننگی ہوگئی توکہیں بوٹ کو چاٹ چات کر عزت دی گئی اور کہیں روٹی کپڑا چھین لیا گیا۔
تازہ ترین مصدقہ اطلاعات کے مطابق جنرل سرفراز ستار کو خاندان سمیت نظر بند کرنے کے بعد اُن سے استعفاءلے لیا گیا اور زبان کھولنے کی صورت میں کورٹ مارشل کرنے کی دھمکیاں اور تضلیل کی گئی۔
اقتدار کے اس کوٹھے پر وہی براجمان ہوا جس کے ساتھ ننگے بدن اور کرپشن سے بھرپور تماش بین تھے۔ اور بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے والے تمام سیاستدان اس گناہ میں برابر کے شریک پائے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے