بدھ , 12 اگست 2020

ثنا بُچہ اور آصف غفور آمنے سامنے

جون 2019 میں بھی ثنا بُچہ اور میجر جنرل آصف غفور کے درمیان ٹوئٹر پر نوک جھونک کا اس قسم کا ایک دور دیکھنے میں آیا تھا۔
یہ معاملہ ثنا بُچہ کی جانب سے 12 جنوری کو کی جانے والی ایک ٹویٹ کے بعد شروع ہوا، جس میں انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے ذاتی اکاؤنٹس سے کی جانے والی ٹویٹس پر طنزیہ ٹویٹ کی تھی
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور ٹوئٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے بھی خاصے متحرک رہتے ہیں اور اکثر اوقات صحافیوں کی ٹویٹس کا حوالہ دیتے ہیں یا براہ راست ان کا جواب دیتے ہیں۔ پیر کو بھی انہوں نے صحافی ثنا بُچہ کی ایک ٹویٹ کا جواب دیا تو ٹوئٹر پر ٹرینڈ شروع ہو گیا۔

یہ معاملہ شروع ہوا ثنا بُچہ کی جانب سے کی جانے والی ایک ٹویٹ کے بعد، جو انہوں نے 12 جنوری یعنی اتوار کے روز کی۔ اپنی ٹویٹ میں ثنا بُچہ نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے ذاتی اکاؤنٹس سے کی جانے والی ٹویٹس اور آئی ایس پی آر کی جانب سے سیالکوٹ موٹروے منصوبے کے مکمل ہونے پر جاری کی جانے والی پریس ریلیز کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا تھا: ’دوپٹوں کی رنگائی کے ساتھ ساتھ پیکو کا کام بھی تسلی بخش کیا جاتا ہے، آئی ایس پی آر۔‘

جس کے بعد ڈی جی آئی پی ایس آر نے اپنی ٹویٹ میں ثنا بُچہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’شاید یہ آپ کی جانب سے آئی ایس پی آر کے لیے کام کرنے کے دوران فائدہ اٹھانے کے لیے کیا گیا ہو گا۔ میں کسی ایسی سروس سے واقف نہیں۔ اگر آپ کے کوئی بقایاجات رہتے ہیں تو آپ وہ حاصل کر سکتی ہیں۔‘

تاہم بعد میں آصف غفور نے اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی تھی۔ اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر اپنے اکاؤنٹ سے بالی وڈ ادکارہ دیپکا پاڈوکون کے بارے میں بھی ایک ٹویٹ کرنے کے بعد ڈیلیٹ کر چکے ہیں۔

جس کے بعد ثنا بُچہ نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ ’سر کیوں بلاوجہ کے پنگے لیتے ہیں۔ اب میں نے کوئی جواب دیا تو (آپ کے محکمے سے) کرنل شفیق کا منت بھرا فون آ جائے گا کہ میم پلیز ٹویٹ ڈیلیٹ کریں۔‘

انہوں نے میجر جنرل آصف غفور کو مخاطب کر کے لکھا: ’آپ فوج کے ترجمان ہیں اس لیے ایسا آپ کو زیب نہیں دیتا۔ یہ آپ کا ذاتی فائٹ کلب نہیں ہے۔‘

جون 2019 میں بھی ثنا بُچہ اور میجر جنرل آصف غفور کے درمیان ٹوئٹر پر نوک جھونک کا اس قسم کا ایک دور دیکھنے میں آیا تھا۔

اس بحث کا اس وقت اختتام ہوگیا جب میجر جنرل آصف غفور نے ثنا بچہ کو مخاطب کرتے ہوئے ٹویٹ کی اور لکھا: ’بغیر کسی وجہ کے، میں نے کبھی کچھ شروع نہیں کیا۔

براہ کرم اپنے غیر اخلاقی تاثرات ملاحظہ کریں جس نے مجھے اور دیگر پاکستانیوں کی طرف سے ردعمل دینے پر اکسایا۔ میں صرف صحافتی اخلاقیات کا احترام کرتے ہوئے اپنے کل کے جوابات کو ڈیلیٹ کررہا ہوں۔ آپ بھی ابھی اور مستقبل کے لیے اپنی پسند کا انتخاب کرسکتی ہیں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے