جمعرات , 2 جولائی 2020

پاکستان میں سیاسی آزادی

پاکستان میں سیاسی آزادی
Mujtabaexpress@gmail.com

پاکستان کو بنے72 سال گزر گئے مگر آج تک کبھی بھی ملک میں سیاسی حالات بہتر نہ ہو سکے اور نہ سیاسی آزادی مل سکی اسٹیبلشمنٹ کے بھگوڑوں نے ملک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا اگر ہم ماضی سے شروع کریں تو پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ نے اپنی پیاس بجھانے کے لئے سب سے پہلا شکار جسے بنایا بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جنازح کو فوجی آمر جنرل ایوب نے جعل سازی کے زریعے الیکشن میں ہرا کر ملک کے اندر سویلین نظام کی تباہی کی طرف پہلا قدم بڑھایا جو اب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے
پاکستان میں سیاسی آزادی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں وقت کے ساتھ ساتھ صلب کی جاتی رہی اور اب تو یہ حالت ہےکہ اسٹیبلشمنٹ کی موجودگی میں سیاسی سوچ پر بھی پہرے لگ گئے ہیں جو کوئی بھی حق سچ بات کرتا ہے اس کے لئے دنیا تنگ کر دی جاتی ہے سینکڑوں لوگوں کو اسٹیلشمنٹ نے اغوائ کیا جن کا آج تک کوئی پتہ نہیں چل سکا کہ وہ زندہ ہیں یا مر چکے ہیں صحافت پاکستان کے اندر اسٹیبلشمنٹ کی لونڈی بنا دی گئی ہے ملکی بجٹ کا کثیر حصہ غریب عوام تک نہیں پہنچ پاتا اور اسٹیبلشمنٹ کا پیٹ پھولتا ہی جا رہا ہے۔ منظور پشتین جیسے لوگ جو ماسٹر ڈگری ہونے کے بعد اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اسے گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کا مقصد صرف اپنے حقوق کاتحفظ کرنا ہے منظور پشتین نے صرف ایک بات پوچھی تھی کہ ہمارے مسنگ پرسن(اغوا کنان) کا ڈیٹا دیا جائے ان کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا جائے مگر منظور پشتین کی یہ بات اور جائز مطالبہ اسٹیبلشمنٹ کو ناگوار گزرا اور اسکی پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف ایک کریک ڈائون شروع کر دیا گیا اور اس موومنٹ کے ساتھ منسلک لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے جس کی پورے ملک میں مزمت کی جارہی ہے اسٹیبلشمنٹ پی ٹی ایم سے اس قدر خائف ہو چکی ہے کہ سکول کئ طلبائ کے خلاف بھی کاروائیاں جاری ہیں اور جائز حقوق مانگنے والوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے گزشتہ روز منگل کو اسلام آباد میں پاکستان کے سب سے بڑے پریس کلب نیشنل پریس کلب کے سامنے سے پارلیمنٹ کےرکن محسن داوڑ اور علی وزیر کو گرفتار کر لیا گیا جو ایک سفاک عمل ہے یہ دونوں قومی اسمبلی کے اراکین ہیں ان کی جس طرح توہین کی گئی تو پھر ایک عام شخص کی پاکستان میں عزت نفس کیسے محفوظ ہو گی محسن داوڑ اور علی وزیر نیشنل پریس کلب کے سامنے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کی بلاجواز گرفتاری کے خلاف مظاہرے میں شریک تھے جو سب کا حق ہے مگر اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات ناگوار گزری اور ان کو گرفتار کروا لیا گیا ۔ منظور پشتین کی تحریک وزیرستان سے نکل کر پورے ملک میں پھیل چکی ہے یہ حقوق کی جنگ ہے جس کو روکنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ اپنے سارے ناجائز وسائل استعمال کر رہی ہے تاکہ ان کی آواز کو دبایا جا سکے ۔ منظور پشتین اب ایک قومی ہیرو بن چکا ہے اس کے خلاف کی جانے والی ا نتقامی کاروائیوں کو عوام جام چکی ہے کہ اور اب پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں میں منظور پشتین کے حق میں مظاہرے شروع ہورہے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کا مکروح چہرہ بے نقاب کریں گے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ نے سویلین بالادستی کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے کوئی بھی ادارہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے محفوظ نہیں رہا یہ ایک خطرناک رجحان ہے منظور پشتین کے خلاف کی جانے والی کاروائیاں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں سرد مہری پیدا کر رہی ہیں جس کے نتائج بہت بھیانک ہو گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے