پیر , 21 ستمبر 2020

بیوائوں کے بھی جذبات ہوتے ہیں ، نوجوان لڑکے نے 3بچوں کی بیوہ ماں سے شادی کر کے نئی مثال قائم کر دی

لاہور کے قریب موجود گاؤں کے ایک لڑکے نے بیوہ عورت سے شادی کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔ کاشف نے ایک ایسی خاتو ن سے شادی کی ہے جس کہ پہلے ہی 3 بچے ہیں۔میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کاشف نے بتایا ہے کہ یہ شادی میرے والدین کی مرضی سے ہوئی ہے۔مجھے میرے والدین نے بتایا کہ ہم یہ فیصلہ لینے جا رہے ہیں، میں نے ان کی رضامندی میں ہی اپنی ہاں شامل کر دی۔

سوال کا جواب دیتے ہوئے کاشف کا کہنا تھا کہ میرا مقصد نوجوانوں کو آگاہ کرنا تھا کہ بیوہ عورت کے بھی کچھ جذبات ہوتے ہیں، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیئے کیونکہ وہ خود اپنے شوہر کو نہیں مارتی۔ہمیں نکاح کو عام کرنا چاہیئے۔نوجوانوں کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کاشف کا کہنا تھا کہ جس بھی گھر میں بیوہ ہو، ہمیں اس سے شادی کرنی چاہیئے۔
کاشف نے بتایا کہ اس کی دلہن پہلے اس کے ماموں کی بیوی تھیں ،لیکن جب اس کے ماموں فوت ہوئے تو گھر والوں نے کاشف کی شادی کردی۔دوستوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا گیا کہ دوستوں نے بھی بہت کہا کہ میں ایسا نہ کروں، لیکن میں نے کسی کی بھی تنقید کو نہ سنا اور بس اپنے والدین کے کہے پر عمل کرتے ہوئے میں نے یہ شادی کر لی۔
یاد رہے کہ کاشف نے تین بچوں کی ماں سے شادی کی ہے۔بچوں کی عمریں 7 سال، 4 سال اور ڈیڑھ سال کے قریب ہے۔کاشف نے بتایا کہ اس کے خاندان والوں نے بھی اس کے فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے ۔یاد رہے کہ کاشف کا تعلق لاہور کے قریب ایک گاؤں سے ہے جہاں اس نے 3 بچوں کی بیوہ ماں سے شادی کر کے ایک نئی مثال قائم کر دی ہے اور نوجوانوں کو پیغام دیا ہے کہ بیوہ عورت کے بھی کچھ احساسات ہوتے ہیں، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیئے اور نکاح کو عام کرنا چاہیئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے