بدھ , 12 اگست 2020

اورنہ ہی کسی وائرس زدہ مریض سے ملاتھا کروناوائرس کانیاکیس جس نے ماہرین کوچکرادیا

نوول کروناوائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19کے بارے میں اب تک معلوم ہوچکاہے کہ 80فیصد کیسز میں اس کی علامات معتدل ہوتی ہیں اور98فیصد مریضوں کی صحت یابی کاامکان ہوتاہے تاہم طبی ماہرین یہ بات مکمل یقین سے کہنے سے قاصر ہیں کہ یہ وائرس انسانوں میں کس طرح منتقل ہوتاہے یہ تومعلوم ہے کہ بیمارفردکے کھانسنے یاچھینکنے سے خارج ہونے والے ننھے ذرات صحت مند افراد میں داخل ہوکر انہیں بیمار کرسکتے ہیں، جبکہ یہ پہلے
ممکنہ طور پر چمگادڑ سے کسی ممالیہ جانور (پینگولین کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جارہا ہے) سے انسانوں میں منتقل ہوا اور پھر ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتا رہا۔مگر اب بھی امکان ہے کہ اس وائرس سے متاثر ہونے کے دیگر ذرائع بھی ہوں، کم از کم امریکا میں نئے کورونا وائرس کا ایسا کیس سامنے آیا ہے جس نے طبی ماہرین کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے اس مریض میں یہ وائرس کیسے آیا، اس بارے میں ماہرین اب تک کچھ نہیں جان سکے کیونکہ وہ شخص نہ تو چین یا اس وائرس سے متاثرہ کسی ملک یا شہر میں گیا اور نہ ہی اس نے کسی اور مریض سے ملاقات کی۔امریکی محکمے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن نے بدھ کی رات اس بات کا اعلان کیا تھا اور کیس کی وجہ معلوم نہ ہونے پر نئی ٹیسٹنگ گائیڈنس کا اجرا کیا۔سی این این کے مطابق اس مریض کی حالت کافی خراب ہے جس کی تصدیق ایک مقامی ریپبلکن رکن نے کی۔اس وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز میں سی ڈی سی نے امریکا میں ڈاکٹروں کو ہدایت کی تھی وہ مریض سے چین کی سفری تاریخ یا وائرس سے متاثرہ فرد سے رابطے کی معلومات حاصل کریں۔مگر اس نئے مریض کے باعث اب ہدایات میں تبدیلی گئی ہے اور مریض کو شمالی کیلیفورنیا کے ہسپتال میں اس وقت منتقل کردیا گیا ہے جب سی ڈی سی نے اسے کووڈ 19 کے طے کردہ معیار کے مطابق فٹ قرار نہیں دیا، اور ٹیسٹ نہیں کیا، مگر ڈاکٹروں کی جانب سے ٹیسٹ پر اصرار کیے جانے پر اس شخص کو اتوار کو ٹیسٹنگ کے لیے بھیجا گیا۔سی ڈی سی کے مطابق اب یہ کسی نامعلوم ذریعے سے متاثر ہونے والا پہلا امریکی کیس ہے اور اسے وائرس کا ‘کمیونٹی اسپریڈ’ کیس قرار دیا جارہا ہے، یہ اصطلاح ایسے ذریعے کے لیے استعمال ہوتی ہے جب انفیکشن کی وجہ نامعلوم ہو۔سی ڈی سی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ کے مطابق ‘جیس ہی کیس کی تصدیق ہوئی، ہم نے وائرس کے حوالے سے تعین کے عمل پر نظرثانی کی، اب اس حوالے سے ہم نئی ہدایات ویب سائٹ پر جاری کررہے ہیں، جس میں مشتبہ کیسز کے ٹیسٹ کے بارے میں بتایا جائے گا’۔طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ اس کیس کی پراسرار نوعیت بہت اہم ہے کیونکہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ وائرس کمیونٹی میں موجود ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ہر ایک خطرے کی زد میں ہے، ہم نہیں جاتنے کہ کون اس وائرس کو لے کر گھوم رہا ہے اور یہ بھی نہیں جانتے کہ کون اس کا شکار ہوسکتا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ جس نے بھی کیلیفورنا کے رہائشی میں اس وائرس کو منتقل کیا، وہ دیگر افراد کو بھی اس کا شکار کرسکتا ہے۔ان کے بقول ‘چونکہ یہ وائرس نیا ہے، تو ہم میں سے کسی میں بھی اس کے خلاف مدافعت موجود نہیں، تو جس کا بھی اس سے سامنا ہوگا، اس میں انفیکشن کا خطرہ بہت زیادہ ہے’۔اب امریکی طبی حکام اس مریض سے ملنے جلنے والوں میں اس وائرس کو تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان اور چین سمیت دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں 83 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 2867 ہلاکتیں ہوئی ہیں، مگر 36 ہزار سے زائد افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے