جمعرات , 2 جولائی 2020

گھر کی بات باہر کیسے نکلی؟ عظمیٰ خان اور ہُما خان کی ویڈیو کو وائرل کیوں کرایا گیا؟

 تشدد کا نشانہ بننے والی اداکار عظمیٰ خان نے کہا ہے کہ میری اور میری بہن ہما خان کی جان کو خطرہ ہے۔ ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ عظمیٰ خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری پوری دنیا میں بدنامی کی گئی ، میری ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر ڈالا گیا۔ عظمیٰ خان اوران کی بہن گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔انڈسٹری میں کام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب مجھے کون کام دے گا ، کون میرے ساتھ کام کرنے کی خواہش کرے گا۔ میرے ساتھ زیادتی کی گئی۔اداکارہ عظمیٰ خان بہن ہما خان کا ویڈیو بیان میں کہنا ہے کہ عثمان سے میری 2 سال سے دوستی ہے، میں اعتکاف بیٹھی تھی چاند رات کو جب کمرے سے باہر آئی تو سامنے عثمان بیٹھا تھا، اس نے 5 منٹ بیٹھنے کا کہا، تب ہی اچانک کچھ گارڈ دیوار پھلانگ کر اندر آگئے، خواتین گھر میں گھس گئیں اور ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا، گارڈ کو کہا ان لڑکیوں کو کمرے میں لے جاو۔اداکارہ عظمیٰ خان اور ان کی بہن ہما خان کی جانب سے تمام واقعے کے حوالے سے ویڈیو بیانات جاری کیے گئے ہیں۔ ٹوئٹر پر جاری ویڈیو بیانات میں دونوں بہنوں کی جانب سے تمام واقعے کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔اداکارہ عظمیٰ خان کا کہنا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھ گئی تھیںپھر چاند رات کو ان کی بہن نے ان کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا اور میں باہر آئی۔ جب کمرے سے باہر آئی تو سامنے عثمان بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ مجھے دوست نے اعتکاف کی دعوت دی ہے مجھے وہاں جانا ہے، تو اس پر عثمان نے کہا کہ 5 منٹ بیٹھ جاو۔ جیسے ہی میں عثمان کیساتھ بیٹھی اچانک مسلح گارڈ دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوگئے۔ ان کیساتھ عورتیں بھی تھیں جنہوں نے گھر میں آ کر مجھے اور بہن کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔عظمیٰ خان کا بتانا ہے کہ انہیں جنسی ہراساں بھی کیا گیا، ان کو تشدد کا نشانہ بنانے والی خواتین گارڈز کو کہتی رہیں کہ انہیں ہاتھ لگاو، کمرے میں لے جاو۔ عظمیٰ خان کا کہنا ہے کہ عثمان کیساتھ ان کے غلط تعلقات نہیں ہیں، وہ دونوں 2 سال سے دوست ہیں۔ عظمیٰ خان نے حکومت، فوج اور پولیس سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف دلوایا جائے۔ جبکہ ہما خان کا کہنا ہے کہ ان کی بہن کو کمرے میں بند کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہ عظمیٰ خان نے موقف اختیار کیا تھا کمزور ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے