بدھ , 12 اگست 2020

شریف خاندان کی ٹی ٹیز بھی ملک کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی وجہ ہے: شہزاد اکبر

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب و داخلہ مرزا شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ  شریف خاندان کی ٹیلی گرافگ ٹرانزیکشن (ٹی ٹی)  بھی ملک کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی وجہ ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں 2018 میں داخل ہوا، گرے لسٹ میں کوئی ایک دم شامل نہیں ہوتا، یہ ناکامیوں کاسلسلہ ہوتا ہے، منی لانڈرنگ، کرپشن اور ٹیرر فنانسنگ پر چیک لگانا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹ کیس کے لیے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی، ثبوت سامنے آئے تو ایک سابق صدر بڑے اعتماد سے کہتے ہیں کہ فالودے والے سے ثابت کریں، میں نے اس کا اکاؤنٹ کھلوایا، ٹی ٹی شریف خاندان بھی ملک کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی وجہ ہے، خادم اعلیٰ بیگمات کے لیے مختلف ٹی ٹیزلگاتےرہےجن میں بہت سےگھربھی شامل تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ریفارمز میں کچھ قانون سازی اہم ہے، ہمیں ایف اے ٹی ایف پر قومی یکجہتی کی ضرورت تھی لیکن اِس وقت یہ کلبھوشن کے ایڈوکیٹ بنے ہوئےہیں، ایک سابق وزیراعظم نے اپنی پوری تقریر کلبھوشن پر کی، انہیں آئی سی جے میں جانا چاہیے، یہ کلبھوشن کے حقوق کی صحیح ترجمانی کر سکتے ہیں۔

شہزاد اکبر کا اپوزیشن کے ساتھ قانون سازی کے معاملے پر کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھے تو کچھ معاملات پر اتفاق بھی ہوا لیکن میوچل لیگل اسسٹنٹس ایکٹ پر اپوزیشن نے اتفاق نہیں کیا، ایم ایل اے ایکٹ نہ ہونے پربیرون ملک منی لانڈرنگ کی تفصیلات نہیں مانگ سکتے، میوچل لیگل اسسٹنس کا ادارہ بن گیا تو سب کو معلوم ہے کس کی سچائی سامنے آجائے گی۔

نیب قانون کے حوالے سے مشیر احتساب نے مزید کہا کہ اپوزیشن نے قانون سازی کا جو مسودہ دیا ہے وہ خود ان کے لیے شرمندگی کا سبب بنے گا، اپوزیشن کا مجوزہ مسودہ این آر او پلس ہے، چاہتی ہے کہ ہم اس پر دستخط کردیں، اپوزیشن کے پیش مسودے میں 34 ٹانکے لگانے کی کوشش کی گئی، نیب کوغیرفعال کرنے کی 34 ترامیم تھیں، جس پراپوزیشن منہ چھپاتی پھررہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے کہا کہ نیب ایکٹ کا اطلاق 1999 کے بعد سے ہو، اس سے چوہدری شوگر ملز کیس تو ختم ہو جائے گا، اپوزیشن کی تجویز ہے کہ ایک ارب روپے سے کم کی کرپشن نہیں ہو گی، رمضان شوگر ملز کا کیس ایک ارب روپے سے کم کا ہے جس سے شہباز شریف بچ جائیں گے، یہ کہہ رہے ہیں نیب کے دائرہ کار سے منی لانڈرنگ کو نکالیں، ان سے پوچھا منی لانڈرنگ پھر کس کو دیں؟ کہنے لگے اسے بینکنگ کورٹس کو دے دیں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ہم قانون سازی کے لیے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، ان تمام شرائط کو چھوڑ دیں، قانون سازی پر بات کریں، انفرادیت تک محدود نہ کریں، قانون سازی کرتے ہوئے ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ دیں، اس این آر او کے خالقوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ پچھلے این آر او کا حشر یاد رکھیں، اپوزیشن کا مجوزہ مسودہ تو عدالت میں ایک گھنٹہ بھی نہیں ٹھہر سکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے