بدھ , 20 جنوری 2021

رکشہ مکینک کا شاگرد پر تشدد، ویڈیو وائرل

معاشرے کی عمارت  برداشت، رواداری، اخلاقیات، اور محبت کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے اور جب یہ خصوصیات سماج سے رخصت ہوجائیں تو وہ تباہی کی طرف تیزی سے گامزن ہوجاتا ہے، یہی گمبھیر صورت حال ہمارے معاشرے کو بھی درپیش ہے جہاں عدم برداشت کا رجحان اس سُرعت سے فروغ پارہا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔

عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے خوفناک رحجان کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہورہا ہے، یوں دکھائی دیتا ہےجیسے  افراد کی اکثریت کی قوت برداشت ختم ہوچکی ہے اور رواداری جیسی اعلیٰ صفت معاشرے سے عنقا ہوچکی ہے۔آج لاہور میں ایک اور عدم برداشت کا افسوسناک واقعہ پیش آیا رکشہ مکینک نے  شاگر کو معمولی سی غلطی پر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس حرکت میں آگئی۔پولیس کے مطابق ٹاؤن شپ کے علاقہ میں موٹر سائیکل مکینک نے کمسن شاگرد پر تشدد کیا، ایک راہگیر نے اپنے موبائل سے بچے پر تشدد کی ویڈیو بنالی، ویڈیو میں مکینک کو بچے پر تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے، بچہ درد سے چیخ و پکار کرتا رہا لیکن کسی نے مدد نہ کی، تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو پولیس نے تشدد کرنے والے مکینک شاہد کو گرفتار کر لیا۔

دوسری جانب شادمان میں فارن آفس پر تعینات پولیس اہلکاروں نے ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، سی سی پی او نے نوٹس لیکر ایس ایس پی ڈسپلن کو انکوائری کا حکم دے دیا۔صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب ڈاکٹر سلمان حسیب چوہدری کا کہنا تھا کہ مثالی پولیس کے دعویداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق عدم برداشت کسی بھی جرم کی سب سے بنیادی وجہ ہے،  اگر صرف برداشت کی صلاحیت کو مضبوط کر لیا جائے تو کسی بھی معاشرے سے 90فیصد جرائم کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ یہ بات حقیقت کے بالکل قریب ہے کیونکہ ہر جرم کی داستان کے پیچھے عدم برداشت کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔